A world of words, a light for thoughtSaturday, 31 October 2026

حبیب جالب — تعارف اور منتخب کلام

Author: Editorial team
Reading time: about 2 min
حبیب جالب پاکستان کے انقلابی شعراء میں سے ایک تھے۔ وہ 24 مارچ 1929 کو برطانوی ہند میں ہوشیارپور کے قریب ایک گاؤں میں 'حبیب احمد' کے نام سے پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آ گیا۔ حبیب نے کراچی کے روزنامہ 'امروز' میں پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔ وہ سادہ زبان میں لکھتے تھے اور عام طور پر ایسے موضوعات کا احاطہ کرتے تھے جن کا براہِ راست تعلق عوام سے ہوتا تھا۔ وہ جمہوریت کے پکے حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ مارشل لا، آمریت اور ریاستی جبر کی مخالفت کی۔ ان کی اہم تصانیف میں 'سرِ مقتل'، 'ذکر بہتے خون کا'، 'گنبدِ بیدار'، 'کلیاتِ حبیب جالب'، 'اس شہرِ خرابی میں'، 'گوشے میں قفس کے'، 'حرفِ حق'، 'حرفِ سرِ دار' اور 'عہدِ ستم' وغیرہ شامل ہیں۔ حبیب جالب 13 مارچ 1993 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ انہیں 2009 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز 'نشانِ امتیاز' سے (بعد از مرگ) نوازا گیا۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

This article introduction is currently available in Urdu. The English edition has not been added yet.

Share this article

Copy the short link or share it with friends.

Share this article

Editorial team

Selected writing on literature, reading and ideas.

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *.