حبیب جالب پاکستان کے انقلابی شعراء میں سے ایک تھے۔ وہ 24 مارچ 1929 کو برطانوی ہند میں ہوشیارپور کے قریب ایک گاؤں میں 'حبیب احمد' کے نام سے پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آ گیا۔ حبیب نے کراچی کے روزنامہ 'امروز' میں پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔ وہ سادہ زبان میں لکھتے تھے اور عام طور پر ایسے موضوعات کا احاطہ کرتے تھے جن کا براہِ راست تعلق عوام سے ہوتا تھا۔ وہ جمہوریت کے پکے حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ مارشل لا، آمریت اور ریاستی جبر کی مخالفت کی۔ ان کی اہم تصانیف میں 'سرِ مقتل'، 'ذکر بہتے خون کا'، 'گنبدِ بیدار'، 'کلیاتِ حبیب جالب'، 'اس شہرِ خرابی میں'، 'گوشے میں قفس کے'، 'حرفِ حق'، 'حرفِ سرِ دار' اور 'عہدِ ستم' وغیرہ شامل ہیں۔ حبیب جالب 13 مارچ 1993 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ انہیں 2009 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز 'نشانِ امتیاز' سے (بعد از مرگ) نوازا گیا۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا
چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا
یہ تحریر شیئر کریں
مختصر لنک کاپی کریں یا دوستوں کو بھیجیں۔




